جیسے اک مظلوم انساں دشمنوں کی قید میں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلازندگی الجھی ہے ایسے الجھنوں کی قید میں
جیسے اک مظلوم انساں دشمنوں کی قید میں
ہیں رواجوں میں گھری سہمی ہوئی سی لڑکیاں
جس طرح معصوم پنچھی ساحروں کی قید میں
جانے کب ویران گلشن میں بہاریں آئیں گی
بارشِ رحمت ہے اب تک بادلوں کی قید میں
موت دے آزاد کر دے اب مجھے میرے خدا
زندگی کاٹی ہے اب تک بس غموں کی قید میں
دو دوانے پھر ہوٸے قربان راہِ عشق میں
پھر محبت مر گٸی ان سرحدوں کی قید میں
نرم و نازک تتلیوں کو دیکھ کر لگتا ہے ٰ یوں
رنگ ہیں قوسِ قزح کے تتلیوں کی قید میں
دے رہے ہیں آپ گمراہی کو آزادی کا نام
خوش ہوں میں خود ساختہ پابندیوں کی قید میں
اے یزیدوں بچ نہیں سکتے خدا کے قہر سے
حضرتِ زینب یہ بولیں کافروں کی قید میں
آج ہم بھی آ گئے وشمہ تو کاہے کا ملال
جانے کتنے سوگئے ان تربتوں کی قید میں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






