جینا یہ ہمارے لئے آسان نہیں تھا

Poet: Wamiq Kakakhel By: Wamiq Kakakhel, Rawalpindi

جینا یہ ہمارے لئے آسان نہیں تھا
اک آگ کے دریا سے تھا ہر روز گزرنا
کہتے بھی حکایات جنوں کس سے بھلا ہم
ہر شخص کا سینہ ہی تو زخموں سے بھرا تھا
بے مہر تھا حاکم تو جفاکار کارندے
خلقت کو تو ہر ایک یہاں لوٹ رہا تھا
مسجد جو لٹی میری، وہ مندر جو لٹا میرا
ان لوٹنے والوں کا بھی اپنا تھا بھلا کیا
ان سب کا تو پیغام محبت ہی رہا ہے
وہ جین یا عیسیٰ تھا وہ بدھا یا کرشنا
اس دنیا میں اک آگ لگا بیٹھا ہے انساں
اب چاند پہ پہنچا ہے تو دیکھیں یہ کرے کیا
پھیکیں گے زباں کاٹ کے سچ بولا اگر تو
اک یہ ہی صلہ ہے تجھے وامق جو ملے گا

Rate it:
Views: 581
31 May, 2010
More Political Poetry