عوام کے نام
Poet: Wamiq Kakakhel By: Wamiq Kakakhel, Rawalpindiتم عام آدمی ہو وطن کی تم آن ہو
تم معتبر ہو تم ہی وطن تم ہی قوم ہو
آگے بڑھو اور ان کو مٹا دو فنا کرو
جو ننگ دیں ہو ننگ وطن ننگ قوم ہو
گدی سے کھینچو اس کی زباں جھوٹ بولے تو
بے حس ہو رہنما تو سر دار کھینچ دو
وعدے نبھانے والوں کو سر پہ بٹھا رکھو
وعدہ خلاف ہو تو حکومت کا حق نہ دو
فرمان کوتوال شہر آج کا یہ ہے
دنیا سے ہر غریب کی ہستی مٹا ہی دو
رسم کہن تغیر اوقات ہی تو ہے
بدلے گا وقت چہروں کو اک بار بدلو جو
کاغذ کا ایک پرزہ جو طاقت تمہاری ہے
یہ گڑگڑائیں بھی تو انہیں بھیک میں نہ دو
ان سے حساب لو جو انہیں دے چکے ہو تم
چھینو تمہارے نام سے لوٹا انہوں نے جو
جو رہبروں کے بھیس میں رہزن تمہیں ملے
اس کی قبائے قیمتی کی دھجیاں کرو
افلاس و بھوک تم کو جو دیتا ہے رہنما
پیروں تلے سے اس کے زمیں اپنی کھینچ لو
آئین کی محافظت کے نام پہ اگر
آئین توڑے کوئی تو زنداں میں ڈال دو
مذہب کے نام نفرتیں جو بانٹتے پھریں
ان غار پیٹ والوں کی منطق کو مت سنو
سرمایہ دار کب ہوا ساتھی غریب کا
نہ منتخب کرو نہ حکومت ہی اس کو دو
حاکم یہ سارے جھوٹ کے حرفوں سے ہیں بنے
سب اہل اقتدار تمہارے دروغ گو
دو گز زمیں دفن کو تمہیں دے نہیں رہے
ان کے سروں سے محلوں کی چھت تم بھی چھین لو
اغیار کے نمائندے جو حکمران ہیں
کھینچو سڑک پہ ان کو وطن سے نکال دو
مل مالکوں وڈیروں کے بے رحم راج کا
اب خاتمہ قریب ہے ہمت جو تم کرو
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






