حاکم شہر بہت پریشان
Poet: Mazhar Iqbal Samar By: Mazhar Iqbal Samar, GUJRATحالات یہ کیسے موڑ پر آج لے آئے ہیں
ہم بیوفا نہیں مگر سر کو جھکائے ہیں
اتنی بڑی دنیا میں جب تمہیں دوست بنایا
ایسا لگا کہ ساتھ کئی غم بھی اپنائے ہیں
اک تم ہی تو نہیں برباد الفت کی راہ میں
دوستی نے یہ زخم ہمیں بھی لگائے ہیں
حاکم شہر بہت پریشان دکھائی دیتا ہے
لوگوں نے آج ہاتھوں میں پتھر اٹھائے ہیں
تم آج جس کی پیروی میں رہتے ہو نازاں
تہذیب کے یہ درس ہم ہی نے سکھلائے ہیں
یقین ہے تو ہم دعائیں مانگ رہے ہیں
دامن میں کئی چھید ہیں لیکن پھیلائے ہیں
شاید کہ تک رہے ہیں ہمیں رنج و الم پھر
مظہر میری آنکھوں میں خواب اتر آئے ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







