حسد
Poet: رعنا کنول By: Raana Kanwal, Islamabadوہ مجھ سے حسد میں بہت آگے نکل گیا
گمان یہ بھی نہ کیا کے کیا ہوگا انجام اسکا
ہر حربہ اس نے آزما لیا حسد کی لڑائی میں
بھول گیا وہ کے دھکیل رہا وہ خود کو کھائی میں
دشمنی کے غصے میں حسد اسکی انتہا کی ہوگی
ہوش اسے یہ بھی نہ رہا کے کون اپنا کون پریا ہے
سنا ضرور تھا کے حسد کی نظر کھا جاتی ہے خوشیوں
آج تو دیکھ بھی لیا جب لوٹ گئی پل بھر میں میری اپنی دنیا
دعا ہے الله کبھی کسی کو حاسد سے نہ ملواے زندگی میں
یہ وہ لوگ ہیں جو چپ چاپ جلا دیتے ہیں آنگن کسی کا
کنول خود کو اب سواے دلاسے کے تو کچھ دے نہیں سکتی
مجھے کیا خبر تھی کے وہ حسد میں ا تنا آگے نکل جائے گا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






