حق ہی مانگا ہے رعایت نہیں مانگی میں نے
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIاہل دُنیا سے محبت نہیں مانگی میں نے
مر گیا پھر بھی سہولت نہیں مانگی میں نے
صرف چاہا ہے تیرے دل کی تمنا ہونا
اپنے مالک سے حکومت نہیں مانگی میں نے
میرا حق ہے کہ مجھے ٹوٹ کے چاہا جائے
اس لیے تجھ سے محبت نہیں مانگی میں نے
تیری آنکھوں میں اُمڈتے ہوئے آنسو کیا ہیں
صرف پُوچھا ہے وضاحت نہیں مانگی میں نے
تم اَنا زاد! تو سچ مچ کے خدا بن بیٹھے
تم سے تو بھیک میں عزت نہیں مانگی میں نے
کیوں" قمر" مجھ سے خفا ہوتی ہے ظالم دُنیا
حق ہی مانگا ہے رعایت نہیں مانگی میں نے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






