حقیقت اس سے چپھا نہ سکے حال دل بتا دیا
Poet: sarwat anmol By: sarwat anmol, sargodhaحقیقت اس سے چپھا نہ سکے حال دل بتا دیا
دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر انا کو ہم نے سلا دیا
محبت کی دیوی نے مجھے غم بے انتہا دیا
مجھے تیری نہیں ضرورت یہ کر دھتکار دیا
میرےدل میں لگی آگ نے وجود کو میرے جلا دیا
کسی کوکیا بتاتے ہم مجھے اپنوں نے ہی مار دیا
میں نےرشتےنبھاۓاسطرح زندگی کوروگ لگالیا
لوگ کہتے ھے میں نے رشتوں کو ہی بھلا دیا
محاسبہ کرنے بیٹھی محبت نے مجھے کیا دیا
خالی دامن دیکھکر دل نے تکلیف کو اور بڑھا دیا
تکلیف ہوئ یہ جان کرانمول قسمت نےمجھےکیادیا
محبت کو میری دنیا نے کس طرح کا مذاق بنا دیا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






