خواب بھي
Poet: Amjad Islam Amjad By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIخواب بھي ايک مسافر کي طرح ہوتے ہيں
چشم در چشم سداان کو سفر ميں رہنا
رنگ کي موج ميں خوشبو کے اثر ميں رہنا
ان کي عادت ہي نہيں
ايک جگہ پر رکنا
ان کي قسمت ہي نہيں
ايک نگر ميں رہنا
ہم بھي ايک خواب ہيں اے جان تري آنکھوں ميں
چند لمحوں کو جو ٹہريں تو ہميں
اپني پلکوں کي اماں ميں رکھنا
سايہ ابر تو جہ کے گماں ميں رکھنا
دھيان کے طاق سے ہم کو نہ ہٹانا جب تک
رات کے بام پہ تاروں کے دئے جلتے ہيں
ديکھنا ہم کو ہميں ديکھتے جانا جب تک
ہم تري آنکھ کي وادي ميں سفر کرتے ہيں
خواب کا شوق يہي خواب کي قسمت بھي سہي
حلقہ ريگ رواں گرد سفر ميں رہنا
رنگ کي موج ميں خوشبو کے اثر ميں رہنا
ہم مگر خواب ميں کچھ اور طرح کے ہم کو
نہ کوئي شوقي سفر ہے نہ تلاش خوشبو
تيري آنکھوں ميں جليں اور انہيں ميں بجھ جائيں
چشم در چشم نہيں ہم کو سفر ميں رہنا
ہم کو ہے تيري نظر ميں رہنا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






