خواہش
Poet: Moshin naqvi By: NS, lahoreاب تو خواہش ہے کہ یہ زخم بھی کھا کر دیکھیں
لمحہ بھر ہی سہی اس کو بھلا کر دیکھیں
شہر میں جشن شب قدر کی ساعت آئی ہے
آج ہم بھی تیرے ملنے کی دعا مانگ کر دیکھیں
آندھیوں سے جو الجھنے کی کسک رکھتے ہیں
اک دیا تیز ہوا میں بھی جلا کر دیکھیں
زندگی اب تجھے سوچیں بھی تو دم گھٹتا ہے
ہم نے چاہا تھا کبھی تجھ سے وفا کر دیکھیں
دیکھنا ہے تو محبت کے عزاداروں کو
ناشناسائی کی دیوار گرا کر دیکھیں
جن کے زروں میں ہوا ہانپ کر سو جاتی ہے
ایسی قبروں پہ کوئی پھول چڑھا کر دیکھیں
رونے والوں کے ہمدرد تو بہت ہیں محسن
ہنستے ہنستے کبھی دنیا کو رلا کر دیکھیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







