خیال درد جو ملا سنانے آئی ہوں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاطلسم عشق تھا میرا بتانے آئی ہوں
خیال درد جو ملا سنانے آئی ہوں
ملا تھا ہجر کے رستے میں صبح کی مانند
بچھڑ گیا تھا مسافر بھلانے آئی ہوں
عجیب رنگ یہ بستی ہے اس کی نگری بھی
ہر ایک فرد کو دیکھا ہسانے آئی ہوں
وہ اس کمال سے کھیلا تھا عشق کی بازی
میں اپنی فتح سمجھ کر سجا نے آئی ہوں
ہے استعارہ غزل اس سے بات کرنے کا
یہی وسیلہ ہے اب اس سے جانے آئی ہوں
ہنر کی آگ جلائی ہے خاک سے اس نے
کمال اس کا ہی ہے جو دکھانے آئی ہوں
سدا یہ سوچتی ہوں اس کا فیض کیا لکھوں
کہ میرا دوست دشمن بنانے آئی ہوں
کبھی دیا بھی ہے لمحہ کسی کو چاہت کا
تو زندگی کو میں ہی آزمانے آئی ہوں
میں اس کو بھولنا چاہوں تو کیا کروں وشمہ
جو مجھ میں زندہ ہے وہ ہی مٹانے آئی ہوں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






