درد اے وچھورے والا ساڈۓ پلۓ پیں گیا
Poet: Kh Murad malik By: Kh Murad Malik , Manchesterدرد اے وچھورے والا ساڈۓ پلۓ پیں گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
دوکھ اے نصیباں والا ساڈئ جولی پیں گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
دکھ اے عزیزں والا دل اوتۓ سہۓ گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
مجرم آپ سانوں مجرم کہہ گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
تان تے ملام لاکھاں چپ کر سہہ گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
سوکھ سی جو پلۓ میرے دور کوہی لۓ گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
جگڑہ اے عمراں دا کانوں جولی پیں گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
بوتا سی میں بولدہ چپ کر بیھ گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
خون میرا پیندا غم جند میری لیں گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
بس ہون دکھ سنہا شوک نیہوں ریں گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
نکتہ اے اوف والا دل اوتے ریں گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
شکوہ نہ کیتا آساں رولا کانوں پیں گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
کریۓ مراد کئ سوچاں وچ پیں گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






