درد اے وچھورے والا ساڈۓ پلۓ پیں گیا
Poet: Kh Murad malik By: Kh Murad Malik , Manchesterدرد اے وچھورے والا ساڈۓ پلۓ پیں گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
دوکھ اے نصیباں والا ساڈئ جولی پیں گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
دکھ اے عزیزں والا دل اوتۓ سہۓ گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
مجرم آپ سانوں مجرم کہہ گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
تان تے ملام لاکھاں چپ کر سہہ گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
سوکھ سی جو پلۓ میرے دور کوہی لۓ گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
جگڑہ اے عمراں دا کانوں جولی پیں گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
بوتا سی میں بولدہ چپ کر بیھ گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
خون میرا پیندا غم جند میری لیں گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
بس ہون دکھ سنہا شوک نیہوں ریں گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
نکتہ اے اوف والا دل اوتے ریں گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
شکوہ نہ کیتا آساں رولا کانوں پیں گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
کریۓ مراد کئ سوچاں وچ پیں گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






