درد سے گریزاں
Poet: Bakhtiar Nasir By: Bakhtiar Nasir, Lahoreدل کو گھبرانا کب آتا ہے
وہ آتا ہے حوصلہ جاتا ہے
درد سے گریزاں کیوں ہوؤں
اسے پیارا کوئ سنوارتا ہے
مکاں کے اندر مکیں ندارد
ادھر کب کوئ دیکھ پاتا ہے
روح کے وحشی زخمی لوگ
جسم ہی انہیں سنبھالتا ہے
پھر کوئ قتل و حادثہ کی خبر
جب صبح کا اخبار آتا ہے
زرد پتے ہوئے زمیں بوس
سبز پتوں پہ درخت اتراتا ہے
رنگوں میں وہی رنگ دیکھوں
جو کینوس پہ صحیح بکھر جاتا ہے
جگ میں آکے یہ کچھ دیکھا
غم ہر جبیں پہ لہراتا ہے
اوپر سنہرے اندر کالے یار
ناصر ہر بار فریب کھاتا ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






