درد کے آنسو پی کر دیکھے
Poet: UA By: UA, Lahoreدرد کے آنسو پی کر دیکھے پیاس نہ بجھی دل کی
تم ہی کوئی تدبیر بتا دو آخر مجھے اس مشکل کی
کیسے میرے دن کٹتے ہیں کیسے راتیں گزرتی ہیں
تم آ جاؤ تو تمہیں سنا دوں بپتا اپنے اک اک پل کی
شام سویرے رستہ تکتی میری یہ ویراں آنکھیں
سوچتی رہتی ہیں سب باتیں اپنے بیتے کل کی
کاش کہیں سے کوئی پنچھی پھر وہ نغمہ چھیڑے
جو میری بوجھل طبیعت کو پھر سے کردے ہلکی
سر سر کرتی باد صبا نے پھر زلفوں کو چھیڑا
شوخ پون کا جھونکا آیا سر سے چنری ڈھلکی
پیاسی دھرتی کے سینے سے ہوک اٹھی تو رت بدلی
بنجر بستی میں ساون نے دیکھو کیسی جل تھل کی
ساون کی بوندوں نے عظٰمی میرا بھی اک کام کیا ہے
رت بدلی کے اس منظر نے میری مشکل بھی حل کی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







