دل پُر اضطراب نے مارا
Poet: DAAG DELVI By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIدل پُر اضطراب نے مارا
اسی خانہ خراب نے مارا
میری آنکھوں سے ہے عیاں پسِ مرگ
نرگسِ نیم خواب نے مارا
دیکھ لینا کہ حشر کا میدان
میرے حاضر جواب نے مارا
یاد کرتے ہو غیر کے اشعار
ہائے اس انتخاب نے مارا
دل لگاوٹ نے کردیا بسمل
اور پھر اجتناب نے مارا
جس کو ڈھونڈ ا مِلا نہ کعبے میں
ایسے خالی ثواب نے مارا
جان بچتی نظر نہیں آتی
اب نگاہِ عتاب نے مارا
تھک گئے ہاتھ لکھتے لکھتے خط
اس سوال و جواب نے مارا
جاچکیں خلد میں کہ دوزخ میں
طول روزِ حساب نے مارا
وصل دیکھا اگر وصال ہوا
مجھ کو تعبیر خواب نے مارا
میری میت پہ کیوں نہ برسے نور
غیرتِ آفتاب نے مارا
مجھ کو بیتاب دیکھ کر بولے
آپ کے اضطراب نے مارا
دیکھ کر جلوہ غش ہوئے موسٰی
داغ مجھ کو حجاب نے مارا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






