دل کے شیشے میں بال کیوں آئے
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKدل کے شیشے میں بال کیوں آئے
رنجشوں کا خیال کیوں آۓ
وہ وفا کر بھی پائیں گے یا نہیں
ذہن میں یہ سوال کیوں آۓ
جِس نے اوروں کے پر کتر ڈالے
خود ہی وہ زیرِ جال کیوں آۓ
وصل کی اپنی ایک خوشبو ہے
لب پہ ذکرِ وصال کیوں آۓ
آج رہ رہ کے میری آ نکھوں میں
تیر ا رنگِ جمال کیوں آۓ
میں نے مانگی دعاۓ صبر و سکوں
پھر بھی دِل میں اُبال کیوں آۓ
دل میں جتنا بھی رنج ہو چاہے
رُخ پہ رنگِ ملال کیوں آئے
میں نے کھویا تھا جب کوئی اپنا
پھر سے وہ ماہ و سال کیوں آئے
دِل میں جب کھوٹ ہی نہیں عذراؔ
چاہتوں کو ذوال کیوں آۓ
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






