دنیا کی نظروں میں گرنا میرے کس کام آیا
Poet: M.Z By: M.Z, karachiدنیا کی نظروں میں گرنا میرے کس کام آیا
اپنوں سے بچھڑ کر وہ بیوفا غیروں کے کام آیا
میں بھول چکا تھا کہ اپنے ھی بیوفائی کرتے ھیں
دنیا میری برباد کر کے اسے زرا بھی رحم نہ آیا
اگر وہ وفادار ھوتا تو یوں بیوفائی نا کرتا
مجھے اس کا انتظار رھا، پر وہ لوٹ کر نہ آیا
زندگی تو کاقروں کے سنگ گزر ھی جائیگی
پر جسے دوست سمجھا وہ دشمنی کرنے آیا
قتل ھی کرنا تھا تو سامنے سے کرتا
ھمدرد بن کر کیوں اسنے پیٹ میں خنجرچلایا
دوست بنا کر پھر ھم سے اسے مجھ پر پیار نہ آٰیا
کیوں کی بیوفائی اس نے کیوں اسے مجھ پر پیار نہ آیا
نظروں میں اس کی اب شام کے چھینٹے ھیں
اب تنھائی نے ستایا تو میرے پاس چلا آیا
فقط مجھے اس کی ظرورت بھی کیا ھے عشق
اب جنازہ میرا دیکھ کر کیوں اسے رونا آیا؟؟
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






