دِلبر و ہم نوا کو ہار گیا
Poet: جنید عطاری By: جنی عطاری, چکوالدِلبر و ہم نوا کو ہار گیا
آج اک ناخدا کو ہار گیا
آرزو کے قمار خانے میں
اُس کو ہارا، خدا کو ہار گیا
بے نہایت تھی مطلبی دنیا
شاہکارِ وفا کو ہار گیا
جس کا جوگی تھا میں پُجاری تھا
میں اُسی دیوتا کو ہار گیا
تیرے عفو و کرم کی بخشش سے
ہائے لطفِ سزا کو ہار گیا
وصل کی شب نہیں خُوشی کی شب
شوقِ آہ و بکا کو ہار گیا
آج مجھ سے مرا یقین گیا
لبِ گورِ دعا کو ہار گیا
اب نگل لے مجھےتُو اے گرداب
دستِ مشکل کشا کو ہار گیا
ہاے آزارِ بے کسی کا رنج
اور امیدِ شفا کو ہار گیا
راستے مٹ گئے قدم بھٹکے
آخری راہنما کو ہار گیا
پھول مرجھا گئے سبھی دل کے
میں بہارِ صبا کو ہار گیا
ڈھل گئی نبض مر گیا دل بھی
آج تجھ جاں فزا کو ہار گیا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






