سوئے رہتے ہیں مِری قوم کے معمار یہاں
گرم رہتا ہے سدا جُرم کا بازار یہاں
اِتنا مجبور ہوا ہے ، تِرا شا هیں ، اِقبال
ڈِگریاں بیچے جو مِل جائے خریدار یہاں
پوجتے غیر کو ہیں نام خُدا کا لے کر
پھر بھی ہوتے ہی نہیں لوگ گُنہگار یہاں
مُلک کو بیچ دیا اور جو بچا لوٹ لیا
اِتنے برسوں سے ہے جاری یہی بیوپار یہاں
اِک قیامت کا سماں دیس میں ہے شام و سحر
اور سر مست پِھرے دیس کی سرکار یہاں