دیواریں تو ہزار ہیں
Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahoreرُسوا نہیں جو بَر سرِ بازار ۔۔۔۔۔۔دوستو
دعویٰ ہے اُسکے عشق کا بیکار ۔۔۔۔دوستو
دیواریں تو ہزار ہیں پر راہِ عشق ۔۔۔۔میں
ملتا نہیں ہے سایہءِ دیوار۔۔۔۔۔۔دوستو
چلتا ہے کون سنّتِ ابنِ علی پہ ۔۔۔۔۔آج
پھر ہے یزیدِ وقت اور تلوار۔۔۔ ۔دوستو
جان و مال و اَقربا سب کچھ ۔۔۔۔۔۔لُٹا دیا
دیکھو ذرا شبیر کا کردار۔۔۔۔۔۔۔۔ دوستو
سمجھو کہ اُس پہ ٹوٹ گیا غم کا اِک۔۔۔ پہاڑ
جس نے کیا ہے پیار کا اِظہار ۔۔۔۔دوستو
وہ آ رہے ہیں رقص ُکناں اہلِ عشق ۔بھی
سننا ذرا زنجیر کی جھنکار۔۔۔.۔۔۔دوستو
کشتی ہماری ڈوب رہی ہے بھنور کے بیچ
اب کیا کریں گے تیر اور تلوار۔۔دوستو
اِن تُند و تیز موجوں سے لڑنے کے واسطے
لاؤ کہیں سے عزم کے پتوار۔۔۔ دوستو
دیکھو وہ کون ہے سرِ راہِ وفا ۔۔۔۔۔وسیم
پھر جا رہا ہے کوئی سرِدار۔۔۔۔۔دوستو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






