دیکھ کر تم کو کسی اور کی یاد آتی ہے
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIکون کہتا ہے شرارت سے تمہیں دیکھتے ہیں
جانِ من ہم تو محبت سے تمہیں دیکھتے ہیں
تم کو معلوم نہیں تم ہو مقدس کتنے
دیکھتے ہیں تو عقیدت سے تمہیں دیکھتے ہیں
دیکھ کر تم کو کسی اور کی یاد آتی ہے
ہم کسی اور ہی نسبت سے تمہیں دیکھتے ہیں
ساتھ غیروں کے نظر آؤ تو جی کُڑھتا ہے
کیا کہیں کیسی اذیت سے تمہیں دیکھتے ہیں
جھونکنی پڑتی ہے یہ جان عذابوں میں ہمیں
کون کہتا ہے سہولت سے تمہیں دیکھتے ہیں
جانے کیا لکھتے ہو کیا سوچتے رہتے ہو وصی
رات کو جب بھی کبھی چھت سے تمہیں دیکھتے ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






