رات بھر ہوتی رہی برسات دل جلتا رہا
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKرات بھر ہوتی رہی برسات دل جلتا رہا
دل پہ انجانا سا کوئی تیر سا چلتا رہا
وقت کے دریا سے لمحوں کے نہ موتی چن سکے
بے خبر ہم ، اور سورج عمر کا ڈھلتا رہا
کہ نہ پائے ہم اگرچہ کچھ مروت کے سبب
غیر کا آنا ترے در پر ہمیں کھلتا رہا
قافلہ چل بھی دیا رستے میں ہم کو چھوڑ کر
دور تک جانے کا سپنا ہاتھ ہی ملتا رہا
زیست کی مصروفیت میں کچھ پتہ تک نہ چلا
دل میں غم ناسور بن کر پھولتا پھلتا رہا
میں نے جس کو زندگی کی ہر امانت سونپ دی
سانپ بن کر آستیں میں وہ مری پلتا رہا
پاس میرے تھا اگر کچھ وہ تھا میرا حوصلہ
دشمنوں کی چھاتیوں پہ مونگ جو دلتا رہا
ہم توجہ ہی نہ دے پائے کبھی اپنی طرف
وقت کی بھٹی میں سونا جسم کا گلتا رہا
ہم نے عذراؔ اپنی دھڑکن میں بسایا تھا جسے
ہر قدم پر خوابِ رنگیں بن کے وہ چھلتا رہا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






