راتیں ہیں چاندنی
Poet: امن وسیم By: امن وسیم, ملتانراتیں ہیں چاندنی جوبن پہ ہے بہار
بارش کی ہے رم جھم چمن پہ ہے نکھار
گلشن کا ہر گلاب لگے ایسا دلنشیں
دلہن کوئی جیسے کیے بیٹھی ہو سنگھار
تارے بھی مسکرانے لگے ان کو دیکھ کر
اس دلکشی پہ چاند کو آنے لگا ہے پیار
گلے ملتے ہیں سب پھول جب چلتی ہے ہوا
اک میں ہوں کہ تیرے ملنے کو بے قرار
کلیاں نہا کے اوس کے قطروں میں کھل اٹھیں
اور میں کہ تیری یاد میں بیٹھا ہوں سوگوار
شجر بھی سنگ ہوا کے ہیں محو گفتگو
پر میں خموش ہوں مجھے تیرا انتظار
بن تیرے یہ سماں خزاں ہی لگے امن
آئے گی تب بہار کراؤ گے جب دیدار
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






