رشتوں کی کمیٹی ڈالی تھی
Poet: ثناءبنتِ زمان By: sanabintezaman, abbottabadرشتوں کی کمیٹی ڈالی تھی
ہر رشتے کی اپنی باری تھی
طے ہوا تھا کریں گے بھروسہ پیار
خیال وقت احساس اور اعتبار
نہ چھوڑیں گے تنہا کسی رشتے کو
رشتوں کی کمیٹی ڈالی تھی
ہر رشتے نے کرنی وفاداری تھی
گزرا ہر اک کا نمبر اچھے سے
ساتھ دیا ہم نے ہر ایک کا جان دینے تک
رشتوں کی کمیٹی ڈالی تھی
ہر رشتے کی اپنی ذمہ داری تھی
بات بگڑی جب آئی ہماری باری تھی
وصولی تھی چاہی صرف کچھ پل کے ساتھ کی
جانے دغا دے کر ہی کیوں اوقات دکھانی تھی
رشتوں کی کمیٹی ڈالی تھی
ہر رشتے کی اپنی کہانی تھی
محبت وفا اب بات پرانی ہے
رشتوں کی کمیٹی میں بس اب ضرورت باقی ہے
رشتوں کی کمیٹی ڈالی ہے
جو اب صرف وقت گزاری ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






