رمضان کی فضیلت
Poet: عبدالحفیظ اثر By: عبدالحفیظ اثر, Mumbaiرحمت کی گھٹا دیکھو ہر سو چھائی ہے
کیسی قیمتی یہ گھڑی پھر آئی ہے
جنت بھی تو آراستہ اب ہوئی ہے
کیا نظر کرم ہی حق نے فرمائی ہے
لو آیا ماہٍ رمضاں رت نے لی انگڑائی
ہر سو بارانِ رَحْمَت ہر سو بَہار آئی
اکثر حدیث میں ہے اس ماہ کی فضیلت
ہم پر عیاں ہو جائے اس ماہ کی حقیقت
یہ صبر کا مہینہ اس کا ہے بدلہ جنت
غم خواری کا مہینہ ہر ایک پر ہو شفقت
جس نے ادا کیا ہے اس میں تو فرض ویسے
وو غیر رمضاں کے تو سَتَّر ہی فرض جیسے
کوئی بھی روزہ دار کو افطار ہی کرا دے
اس کو ثواب ہوگا مانند روزہ دار کے
افطار کے کرانے کی نہ ہو کوئی وسعت
تو اک کھجور ہی ہو بس اس میں ہو بشاشت
موقوف ہی نہیں ہے کہ پیٹ بھر کھلانا
پانی ہو یا ہو لَسّی بس گھونٹ بھر پلانا
کر دے جو بوجھ ہلکا خادم غلام کا ہی
ہو مغفرت تو اس کی اور آگ سے خلاصی
نیکی میں کی ہے سبقت اس نے نجات پائی
جس میں خلوص نہ ہو اس نے ہے منہ کی کھائی
لو آیا ماہٍ رمضاں رت نے لی انگڑائی
ہر سو بارانِ رَحْمَت ہر سو بَہار آئی
طاعت کا آیا موسم غفلت سے اب ہو دوری
بخشش کا آیا موسم توبہ بھی ہو ضروری
روزے ہوں یا تراویح ان سب میں ہو بشاشت
کثرت سے ہو نوافل اور خوب ہو تلاوت
ہر لمحہ قیمتی ہو نہ وقت کا زیاں ہو
ہر لمحہ ذکر سے تر اپنی ہی تو زباں ہو
بڑھتے رہیں قدم بھی نیکی کی سمت اب تو
بچتے رہیں بدی سے اس کے لیے سعی ہو
ہو خوب اب سخاوت پھٹکے نہ ہی بخیلی
بے بس و بے کسوں کی دل جوئی بھی ضروری
ہوجائے دل مصفّٰی نیکی کی ہو حفاظت
مانگیں دعا میں اپنی سب کے لئے ہدایت
اپنے کریم رب پر ہر کوئی اب فدا ہو
اس نے حیات بخشی اس کا تو حق ادا ہو
نادم ہوں اب خطا پر بخشش کی ہو دہائی
پھر نہ ملے یہ ساعت کرلیں جو کچھ کمائی
لو آیا ماہٍ رمضاں رت نے لی انگڑائی
ہر سو بارانِ رَحْمَت ہر سو بَہار آئی
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






