نماز کی فضیلت
Poet: عبدالحفیظ اثر By: عبدالحفیظ اثر, Mumbaiاپنے تو ہوں کریم رب پر قرباں
اس کی ہی بندگی میں تو ہوں شاداں
اس نے مخلوق میں بنایا اشرف
سجدے سے شرف بخش کر کیا احساں
اے مومنوں سنو یہ فضیلت نماز کی
ہم پر عیاں ہوجائے حقیقت نماز کی
ایمان کے تو بعد مُقَدَّم نماز ہے
ایمان کے تو بعد مُسَلَّم نماز ہے
اعمال میں تو سب سے ہی بہتر نماز ہے
اللہ کی رضا کی ہی خاطر نماز ہے
جنت میں داخلے کی ضمانت نماز ہے
دوزخ سے بچنے کی بھی ضمانت نماز ہے
ہر تنگی سے نجات دلائے نماز ہی
مومن کی آن شان بڑھائے نماز ہی
ملتا ہے ہر کسی کو سکوں بھی نماز میں
ہر درد کی دوا بھی تو ملتی نماز میں
ہم سب کے تو دلوں میں ہو عظمت نماز کی
ہم سب کے تو دلوں میں ہو وقعت نماز کی
اے مومنوں سنو یہ فضیلت نماز کی
ہم پر عیاں ہوجائے حقیقت نماز کی
شیطان کا تو منھ بھی ہو کالا نماز سے
مومن کے دل کا نور بڑھے گا نماز سے
سجدے میں قرب ہی تو خدا کا ملا کرے
گھر کی تو خیر میں بھی اضافہ ہوا کرے
جس کی نماز ایک بھی تو فَوت ہوجائے
وہ ایسا ہی ہے گویا کہ سب کچھ لٹ جائے
ایسی ہی ہے نماز بھی تو دین کے لیے
جیسا کہ آدمی کے بدن کے لیے سر ہے
کافی ہے آدمی کی ہی بدبختی کے لیے تو
سن کر اذان جو بھی نہ جائے نماز ہی کو
مل جائے ہم سبھی کو تو الفت نماز کی
اس سے ہی تو ملے گی ہی برکت نماز کی
اے مومنوں سنو یہ فضیلت نماز کی
ہم پر عیاں ہوجائے حقیقت نماز کی
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






