رنج و الم
Poet: UA By: UA, Lahoreچھپانے سے بھی کہاں تک چھپائے جاتے ہیں رنج و الم
چہرے کبھی آنکھوں سے چھلک ہی جاتے ہیں رنج و الم
زندگی سے ملنے والے صدموں سے یہ جانا ہے کہ
زندگی میں خوشیاں کم ہیں اور زیادہ ہیں رنج و الم
خوشیاں چاہی جاتی ہیں خوشیاں مانگی جاتی ہیں
بن چاہے بن مانگے لیکن کیوں ملتے ہیں رنج و الم
ہم انسان ہی اپنی خوشیوں کے دشمن بن جاتے ہیں
انسانوں کے ہاتھوں ہی انساں نے اٹھائے رنج و الم
مختصر حیات میں خوشیوں کے لمحے تھوڑے ہیں
لیکن زیادہ ہو جاتے ہیں کیونکر اوقاتِ رنج و الم
آخر کیسے زندگی میں خوشیوں کو زیادہ کر لیں
کس طرح سے کم ہو سکتے ہیں دنیا کے رنج و الم
حسد لالچ خود غرضی کینہ کو دل سے دور کریں
تو شاید کہ زندگی سے کم ہو جائیں رنج و الم
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






