رو دیتا ہوں
Poet: Abdul Waheed Sahar By: Abdul Waheed, Lahoreوہ یاد آتا ہے تو میں رو دیتا ہوں
دور رہ کر تڑپاتا ہے تو میں رو دیتا ہوں
وہ اک شخص میرے سب غم سمیٹ چکا تھا
اب روز نیا زخم لگاتا ہے تو میں رو دیتا ہوں
یہ بارشیں اُسکے پیار میں اچھی لگتی تھیں
وہ منظر یاد آتا ہے تو میں رو دیتا ہوں
میرے آنگن میں بہاریں اُس سے آتی تھیں
اب کوئی بھی موسم آتا ہے تو میں رو دیتا ہوں
ہر چہرے میں وہی چھرہ نظر آتا ہے
پھر اُسے ڈھونڈ نہیں پاتا تو میں رو دیتا ہوں
نہ جانے وہ کیوں آیا تھا لُوٹ جانے کے لئے
ہر آہٹ پر یاد آتا ہے تو میں رو دیتا ہوں
لُوٹ آنے کا وعدہ کر گیا تھا وہ مجھ سے
کوئی اپنے گھر لُوٹ کے آتا ہے تو میں رو دیتا ہوں
وحید، اب شہرویراں میں وہ نہیں آیے گا
ہر لمحا خود کو سمجھاتا ھوں تو میں رو دیتا ھوں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی







