ریاست کے مابیں ہیں لوگ رسالت نہیں ہوتی
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiریاست کے مابیں ہیں لوگ رسالت نہیں ہوتی
ہاں روک مزاحمت یہاں کوئی عدالت نہیں ہوتی
کچھ کوتاہ اس انجمن کا اظہار بھی کرلیں کہ
دل خراشوں کی دل لگی میں کوئی ذلالت نہیں ہوتی
کچھ عیاری چنگل حسرت ناک بھی پھرتے ہیں
روز مادہ طاؤس پر پنجہ کبھی تھکاوٹ نہیں ہوتی
ہر سرکشی پہ پوپ کا جبہ بھی ڈھل گیا ہے
نیم جوشی میں کبھی کبھی شرافت نہیں ہوتی
حق دیرینہ تفتیش سب لشکر کشی تو ہے
یہ بھی دانشی کہ زنا کی کوئی ولادت نہیں ہوتی
چلو اعمال و افعال کا بیاں ترک کرتے ہیں سنتوشؔ
اب شاعر کے قلم سے اتنی مزاحمت نہیں ہوتی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






