ریت کبھی بدلتی نہیں
Poet: Moona Naqvi By: Moona Naqvi, SARGODHA ریت کبھی بدلتی نہیں
صدیوں کے بعد بھی
ریت وہیں رہتی ہے
لوگ بدل جاتے ہیں
ریت کی بھنٹ چڑھنے والے
چہرے اور جسم بدل کر آتے ہیں
ناکردہ گناہوں کی لینے
دنیا میں سزا وہ آتے ہیں
کچلے جانے کے لیے
جذبات سجا کر لاتے ہیں
دل کی ڈولی مین
کتنے ہی ارمانوں کو دولہن بنا کر
اسکی عزت کی خاطر
محبت کو ہار جاتے ہیں
روح کو جسم کو
دل کے کئے کی
ایسی سزا دلواتے ہیں
صدیاں گزرنے کے بعد بھی
چاہیت کو پو جنے والے
خود کو وہیں پر پاتے ہیں
عشق کو سولی پر چڑھانے کی
جہاں سے ریت چلی تھی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






