زخم کھائے ہیں بہت ہم نے محبت کے لئے
Poet: Syed Mohd Iqbal Rizvi By: Syed Mohd Iqbal Rizvi, Lucknow, Indiaزخم کھائے ہیں بہت ہم نے محبت کے لئے
ان کو فرصت ہی نہیں میری عیادت کے لئے
زخم بھر جائیں گے یہ سوچ کے پی لی ہے دوا
پھر بھی کچھ چاہئے زخموں کی شفاعت کے لئے
ہم نے محسوس کیا ان کو ہر ایک لمحہ مگر
اور صرف ان کو ملا وقت شکایت کے لئے
خود سے بے گانے ہوئے دل کو بھی دیوانہ کیا
ہم نے کیا کیا نا کیا ان کی قرابت کے لئے
آپ محفل میں نہ آ ئیں تو یہ اچھا ہوگا
میں ابھی ہوں نہیں تیار قیامت کے لئے
ہم نے انداز بٰان اپنا سنوارا تھا بہت
کیونکہ مشہور تھے وہ حُسنِ سماعت کے لئے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






