زخم ہی تیرا مقدر ہیں دل تجھ کو کون سنبھالے گا
Poet: زیب غوری By: مصدق رفیق, Karachiصبح چمن میں جانا میرا اور فضا میں بکھر جانا
شاخ گل کے ساتھ لچکنا صبا کے ساتھ گزر جانا
سحر بھری دو آنکھیں میرا پیچھا کرتی رہتی ہیں
ناگن کا وہ مڑ کر دیکھنا پھر وادی میں اتر جانا
زخم ہی تیرا مقدر ہیں دل تجھ کو کون سنبھالے گا
اے میرے بچپن کے ساتھی میرے ساتھ ہی مر جانا
سورج کی ان آخری مدھم کرنوں کو گن سکتے ہیں
دن کا وہ موتی سا چمکنا پھر پانی میں اتر جانا
یہیں کہیں صحرا میں ٹھہر جا دم لینے کی بات نہیں
خاک سوا رکھا ہی کیا ہے یہاں سے اور کدھر جانا
اس سے اب دشت امکاں کے سفر حضر کا پوچھنا کیا
جس نے راہ گزر کے گھنے پیڑوں کو بھی درد سر جانا
ایک نہاں خانے کے طاق پر آئینہ رکھا تھا زیبؔ
ایک جھلک سی اپنی دیکھنا اور وہ میرا ڈر جانا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






