زندگی جرمِ محبت کی سزا ہو جیسے
Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahoreزندگی جُرمِ محبّت کی سزا ہو جیسے
اور یہ جُرم فقط میں نے کیا ہو جیسے
وہ مجھے دیکھ کے چُپ چاپ کھڑے ہیں ایسے
میری خاموشی نے کچھ اُن سے کہا ہو جیسے
دل کو تھامے ہوئے یوں پاس سے گزرا کوئی
حال کچھ اُس نے میرے دل کا سنا ہو جیسے
میں نےدیکھے ہیں میری جان وہ سنّاٹے بھی
سانس لینا بھی جہاں ایک صدا ہو جیسے
تُو نے دیکھا ہے کبھی صبح کا جھلمل تارہ
دل میرا غم میں تیرے ڈوب رہا ہو جیسے
زیرِ لب یاد ہے مجھ کو وہ تبسّم تیرا
غنچہءِ دل کے چٹکنے کی صدا ہو جیسے
سن کے یہ میری غزل آپ تویوں خوش ہیں جناب
جامِ گلرنگ کہیں مفت پیا ہو جیسے
تیری آنکھوں کی چمک سے مجھے محسوس ہوا ہے
دل تیرے نور سے میرا بھی بنا ہو جیسے
خشمگیں نظروں سے اُس کی مجھے لگتاہے وسیم
آئینہ دل کا میرے ٹوٹ گیآہو جیسے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






