زندگی جس قدَر بچی ہو گی
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالزندگی جس قدَر بچی ہو گی
شورشِ ہجر میں کٹی ہو گی
عیش انگیز کے زمانے ہیں
دل فگاری چلی گئی ہو گی
اتنا ہی وہ پسند آئے گا
جتنی خود میں کمی ہوئی ہو گی
سوچتا ہوں وہ مہ جبیں تھی کون
جو مجھے بھول ہی چکی ہو گی
لیا جائے اگر حسابِ وفا
تب اُسے موت پڑ رہی ہو گی
دیکھ کر خوش اُسے جلے جب ہم
اندروں ہر خوشی سڑی ہو گی
ناگہاں اُس گلی گئے ہوں گے
دھوم پھر شہر میں مچی ہو گی
ضربِ فرقت نہ تھی شدید اتنی
جتنی دل میں کسک اٹھی ہو گی
وہ تپش تھی کہ جل گیا سینہ
لُو ترے ہجر کی چلی ہو گی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






