زندگی میری تو ہے پر میری کہلاتی نہیں
Poet: MeeR Hassan Khoso By: MeeR Hassan Khoso, JACOBABAD(SINDH)ہے مسلسل ساتھ میرے چھوڑ کر جاتی نہیں
یاد تڑپاتی ہے لیکن دل کو بہلاتی نہیں
تشنگی وارفتگی بڑھتی ہی رہتی ہے مگر
میرے چاہت کی گھٹا برسات برساتی نہیں
میرے اللہ میرے مالک میرے مولا میرے داتا
میرے دل کی کیوں بھلا امید بر آتی نہیں
مجھ کو تنہا ظلمتوں میں یوں اکیلے چھوڑ کر
تم گئی ہو، تو یہ تیری یاد کیوں جاتی نہیں
کیوں بہت ہو الجھی الجھی آجکل تم جانِ جاں
پوچھتا ہوں میں مگر وہ کچھ بھی کہہ پاتی نہیں
میں ہوں تجھ سے ،تم ہو مجھ سے ھرگھڑی کیوں کر خفا
زندگی تو کیوں مجھے اب چھوڑ کر جاتی نہیں
ڈور میری زندگی کا میرے ہاتھوں میں نہیں
زندگی میری تو ہے پر میری کہلاتی نہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






