ستارے ٹم ٹماتے ہیں تو کوئی بہت یاد آتا
Poet: محمد مسعود نونٹگھم یو کے By: Mohammed Masood, Nottinghamستارے ٹم ٹماتے ہیں تو کوئی بہت یاد آتا ہے
نظارے جو گیت گاتے ہیں تو کوئی بہت یاد آتا ہے
اُسے آنا نہیں ہے واپس مگر پھر بھی ہاتھ اپنے
دُعا کو جب بھی اُٹھاتے ہیں تو کوئی بہت یاد آتا ہے
کبھی جُگنو کبھی تارے اور گُھونجے کبھی بادل
ہمارا دل جب جلاتے ہیں تو کوئی بہت یاد آتا ہے
بہت کوشش سے بھی ہم اُسے کبھی بُھول نہ پائے
کبھی بھی دل لگاتے ہیں تو کوئی بہت یاد آتا ہے
راستوں پر بکھری ہے کُچھ مہک پچھلی رفاقتوں کی
کسی سے ملنے جاتے ہیں تو کوئی بہت یاد آتا ہے
ہماری شاعری پر بھی اُسی کی حکمرانی ہے مسعود
ہم غزل جب بھی سُناتے ہیں تو کوئی بہت یاد آتا ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






