سرراہ چلتے ہوۓ کسی سے چاہت نہیں ہوتی
Poet: sarwat anmol By: sarwat anmol, sargodhaسرراہ چلتے ہوۓ کسی سے چاہت نہیں ہوتی
کسی کی یاد میں تڑپے دل اب وہ محبت نہیں ہوتی
زمانے نے کر لی اب اس رفتار سے ترقی
یہاں کسی کوکسی کاحال پوچھنےکی فرصت نہیں ہوتی
جھوٹ بول کر جینے کے عادی ہو گۓ ھے ہم اس قدر
اب سچ بولنے کی کسی کو حاجت نہیں ہوتی
آنکھیں جن لوگوں کی مسکراتے ہوۓ نم ھو جاۓ
ان دلوں میں کسی کے لیۓ رقابت نہیں ھوتی
بے راوی کے اس کھیل میں کھو کر پھر
ایمان کی اپنے حفاظت نہیں ھوتی
جس تعلق کی بنیاد ہی محبت ھو
وہاں بھول کر بھی کسی سے نفرت نہیں ہوتی
بہت کچھ کر کے ہی بندہ مومن بنتا ھے
صرف سجدہ کرنے سے عبادت مکمل نہیں ھوتی
کہتی ھے انمول تنہائ میں کر لو سکونت اختیار
لوگوں کےاس ہجوم میں کسیکوکسیکی ضرروت نہیں ہوتی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






