سوچتا ہوں کہ ہوتی ہے کیا خود کشی
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: شمائلہ اسد, UKسوچتا ہوں کہ ہوتی ہے کیا خود کشی
لوگ کرتے ہیں کیونکر بھلا خود کشی
بزدلی کا اسے نام یوں ہی نہ دے
حوصلہ ہے تو کر کے دِکھا خود کشی
خار کا درد بھی جس نے جھیلا نہیں
وہ کیا سمجھے گا ہوتی ہے کیا خود کشی
زندگانی کے ہر اک بیابان سے
دے رہی ہے مجھے اب صدا خود کشی
زیست کا بوجھ کیوں میرے ظاہر پہ ہے
میرا باطن ہی جب کر گیا خود کشی
مر رہا ہوں میں سو بار ہر سانس میں
کیا مرے درد کی ہے دوا خود کشی ؟
سب سے پہلا جہاں کا میں خود کش بنوں
کر دے جائز اگر جو خدا خود کشی
ایک ظالم یہاں پھر بری ہو گیا
ایک مظلوم پھر کر گیا خود کشی
آس ہوتی جو عادل سے انصاف کی
کوئی کیوں ایسے کرتا بھلا خود کشی
جب تلک عدل قائم نہ ہو گا یہاں
لوگ کرتے رہیں گے سدا خود کشی
آ گیا خوف بس عاقبت کا مجھے
ورنہ میں کرنے والا ہی تھا خود کشی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






