سچا پیار
Poet: Usman Arif By: Usman Arif, Lahoreاس کی یاد کو آنسو
محبت کو تنہائی بنا لیا
اس سے کچھ کہ بھی نہ سکا
اور خود کو ہی بدنام کروا لیا
محبت کھیل نہیں دیوانو کا
جس کو عشق ہوا اس نے خود کو مٹا لیا
وہ محبت دل سے روح میں اتر گی
لوگو نے دو چار دن کا خمار سمجھا
میں نے اسکے حجر کو مقدر بنا لیا
ایسا کوئی پل نہیں جب یاد نہ وہ آے
اس کی یاد میں رات کو میخانہ اور دن کو رات بنا لیا
وہ اب خوش ہے کسی اور کی باہوں میں
میں نے بھی آنسوؤں کو قلم سے کاغذ پے اتار لیا
چھوڑ اب رہنے دے نہ پیرو دکھ میں لفظو کے موتی
بس اتنا ہی تو ہوا اس نے گھر کہیں اور بسا لیا
ارے اہ عثمان چھوڑ یہ تیرے بس کی بات نہیں
دو چار لفظ کیا لکھ لئے خود کو شاعر بتا لیا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






