سینے میں میرے درد ہے کیسے بیاں کروں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاسینے میں میرے درد ہے کیسے بیاں کروں
کیسے تمہارے سامنے دل کو عیاں کروں
لکھی ہیں میں نے شعروں میں زندہ کہانیاں
اس کے سوا کیا میں رقم داستاں کروں
میں نے صعوبتوں میں گزاری ہے زندگی
تقسیم اپنے درد کو دلبر کہاں کروں
ہو گا نہ ختم آج مرے درد کا سفر
دریا کو اپنی آنکھ سے کیسے رواں کروں
ایسا نہ ہوکہ خواب ہی بن جائے زندگی
ایسا نہ ہو کہ خواب ہی خود کو گماں کروں
دکھ اتنے گہرے روح میں زخموں کے ہو گئے
زخموں کو چیر چیر کے ہر دم جواں کروں
جو کل سماج میں تھے مسائل ہیں آج بھی
کیا کیا ہیں دردِ زندگی کیسے بیاں کروں
اک تم ہو بیوفائی کا پیکر جہان میں
میں تو وفا کو خون سے ہر دم جواں کروں
دکھ سکھ میں ساتھ میرا نبھاؤ نا عمر بھر
وشمہ میں کیسے روح کو نوکِ سناں کروں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






