شاہین سچے جذبے بھی دغا دے گئے
Poet: Shaheen Mughal By: Shaheen Mughal, gjn آج برسوں بعد
وہ
پھر میرے آنگن میں آیا
تمام بہاریں اپنے سنگ لایا
آج بھی وہ مسکرای گنگنایا
یہ آرزدہ دل پھر سے کھلنے
لگا
نئے نئے خواب پھر بننے لگا
سوچا
میرے جذبوں کا اثر ھے جو
اسے کھینچ لایا
شائد دئیے زخموں پہ مرہم
رکھنے کا خیال آیا
بڑھتے قدم میرے وہیں تھم
سے گئے
اس کی اچٹتی ھوئی نگاہ
نے سب راز کھولا
کہ
آج اس کے مسکرانے اور
گنگنانے میں
میری سوچ کی پیاس نہ
تھی
مدنظر میری ذات تو نہ تھی
وہ کوئی اور تھ
جو میرا نہ تھ
خوش فہمی کے سارے
پھول مرجھا گئے
سچے جذبے بھی آج دغا
دے گئے
وہ قاتل ارماں
ہجر کا اک اور موسم دے
کر چلا گیا
اس کے چلے جانے کے بعد
آس کے در بند کرنے کے بعد
میری پلکیں آج بھی
نم تھیں
مگر آج نجانے کیوں میرے
آنسوؤں میں وہ شدت کم
تھی
آج شاہین بھی کوئی اور تھی
ہاں !
مگر اب اس کی نہ تھی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






