شاید اس کیفیت کا نام ہی محبت یو
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillیہ ابھی آپ نے جینے کی جو دعا دی ہے
آپ نے جلتے ہوئے شعلوں کو ہوا دی ہے
تم تو دو چار قدم چل کے ہی تھک ہار گئے
ہم نے تو عمر ہی اس راہ میں لٹا دی ہے
شاید اس کیفیت کا نام ہی محبت ہو
عجب سی تڑپ ہے سینے میں بے ارادی ہے
تمہارے ہاتھ سے پی ہے میں اتنا جانتا ہوں
مجھے معلوم کیا یہ زہر یا دوا دی ہے
جس نے مڑ کر کبھی دیکھا نہیں تعبیروں کو
دل نے ہر موڑ پہ اس خواب کو صدا دی ہے
کہاں کے اشک کہاں کا لہو کہاں کی آس
وہ ایک یاد تھی پلکوں سے جو گرا دی ہے
اے ذوق طب کیوں اب رات دن ٹڑپتے ہو
ساری ہستی تو تمہیں غزل میں دکھا دی ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






