شمع کیا بجھی

Poet: saiyaan_sham By: saiyaan_sham, rawalpindi

شمع کیا بجھی میرے دریچے میں جلتے جلتے
اپنی ہی تقدیر کے ہاتھوں مار کھا گئی

شام وہ اوروں کی طرح نکلا بے وفا
اور تو اپنی وفا کے ساتھ بھی ہار گئ

عجب بے تکی تیری کہانی ہےشام
جس میں تو خود کو ہی بھولا گئی

آنسو کی طرح آنکھ سے ٹپکتے ٹپکتے
شام اپنے ہی رستوں میں تو بہ گئ

جو اپنا گھر ڈھونڈتے ڈھونڈتے تو بھٹکی
اپنے سر کی چھت خود ہی گرا گئی

سیاہ رنگ پہن کر ماتم بھی کر اپنا
تیرے سپنوں کو کسی کے پاؤں کی دھول مٹا گئی

تیری بکھری زولفیں تیری اجڑی حالت کے سنگ
روتے روتے بھی شام کسی کی ذندگی سنوار گئی

Rate it:
Views: 589
11 May, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL