شوق میں غم کو بہاروں میں مناتے دیکھا
Poet: SHABEEB HASHMI By: SHABEEB HASHMI, AL-KHOBARشوق میں غم کو بہاروں میں مناتے دیکھا
یوں سارے جذبوں کو سر شام سلاتے دیکھا
گیلی لکڑی کی طرح رات یوں سلگتے گزری
ھم نے آنکھوں سے تجھے خواب جلاتے دیکھا
میری سانسوں کی مہک بھی نہ تجھے راس آئی
تجھکو مرجھائے ھوئے پھولوں کو مہکاتے دیکھا
میرے چہرے پہ ھے ٹہرا بے وفائی کا وہ لمحہ
جب تجھے اوروں سے آنکھوں کو ملاتے دیکھا
پھر میں تنہا اور جگ راتوں میں سسکتی سانسیں
یوں تجھے نیند میں رقیبوں کو جگاتے دیکھا
دل کی گہرائیوں سے تیری چاھت کو کھرچ ڈالا ھے
اپنے مرنے پہ جب تجھے جشن مناتے دیکھا ۔۔۔۔
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






