طاری دیکھنا
Poet: رشید حسرت By: Rasheed Hasrat, Quettaاپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا
ہو تمہاری آنکھ سے چشمہ نہ جاری، دیکھنا
تم نے اپنی آنکھ کی تاثیر ہلکے میں تو، لی
دھیرے دھیرے ہو گا کوئی کیف طاری دیکھنا
خوف ایسا آپ نے پیدا کیا تھا ذہن میں
بیچ رستے سے پلٹ آئی بچاری دیکھ نا
راہ کی پیچیدگی بیزار کر دے گی تمہیں
مشورہ ہو گا کہ بہتر سی سواری دیکھنا
دیکھنا تم، سینکڑوں میں ایک دو رہ جائیں گے
آزما کر دوستوں کو باری باری دیکھنا
اجرتی قاتل کسی کا دوست ہوتا ہی نہیں
لے رکھی ہو گی تمہاری بھی سپاری، دیکھنا
کچھ نہیں پونجی ہماری صرف عزّت ہی تو ہے
زندگی ہم نے شرافت میں گزاری۔ دیکھنا
کل تلک تو راج کرتی تھی بڑی ہی شان سے
آج گر ناکام ہے قسمت کی ماری دیکھ ۔ نا
رخ پہ بارش، پھول پر شبنم کے قطرے جس طرح
اس پہ حسرتؔ زلف نے صورت نکھاری، دیکھنا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






