عالم ذات میں جھانکو کوئی کب اچھا ہے
Poet: احمد عقیل By: Samuel, karachiعالم ذات میں جھانکو کوئی کب اچھا ہے
دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ سب اچھا ہے
رونے لگتا ہوں تو آتے ہیں دلاسے دینے
شعر پڑھتا ہوں تو کہتے ہیں عجب اچھا ہے
جانتا ہوں تو کسی اور سے مل کر خوش ہے
چل ترے پیار میں مرنے کا سبب اچھا ہے
جب فقیروں کی بھی کردار کشی کی تو نے
کیسے مانے گا کوئی تیرا نسب اچھا ہے
حال پوچھا تھا کسی نے ترے دیدار کے بعد
بائیں پہلو کو دبایا کہا اب اچھا ہے
آخری بار ملا بیٹھا رہا ساری رات
جانے والے کی عنایات کا ڈھب اچھا ہے
تو وہ دیپک ہے کہ شیدائی ہزاروں جس کے
مجھ سے بے یار و مددگار کا رب اچھا ہے
More Islamic Poetry






