عجب آگ دل میں لگاتا ہے بچپن
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: اقبال شاہد, Karachiعجب آگ دل میں لگاتا ہے بچپن
مرا تن بدن ہی جلاتا ہے بچپن
کھلونوں کی یادیں انہیں کیا ستائیں
جنہیں بس کمانا سکھاتا ہے بچپن
نہ پوشاک تن پہ نہ پاؤں میں جوتی
بھلا کب وہ عیدیں بھلاتا ہے بچپن
ہر اِک زندگانی کی تشنہ لبی کو
فقط آنسوؤں سے بجھاتا ہے بچپن
پزاوے کے سوندھے گِلاوے میں ہر دم
چپاتی کے سپنے دکھاتا ہے بچپن
وہ ایندھن جلانا وہ اینٹیں پکانا
ہنر کیسے کیسے سکھاتا ہے بچپن
بدن پہ برس جاتا ہے تازیانہ
اگر چین کے پل چراتا ہے بچپن
کڑی دھوپ میں سنگ سر پہ اٹھا کر
گزر گاہیں دن بھر بناتا ہے بچپن
غریبوں کے جیون کا دستور ہے یہ
کہ سیدھا بڑھاپے میں لاتا ہے بچپن
یہ سب چونچلے ہیں امیروں کے دیپک
بھلا کب غریبوں پہ آتا ہے بچپن
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






