عشق مجھے ہے دل سُوز مجھے ہی رہنے دو
Poet: Majassaf Imran By: Majassaf Imran, Gujratکیوں لیتے ہو یہ ستم تم اپنے حق میں
عشق مجھے ہے دل سُوز مجھے ہی رہنے دو
گواہ کیوں لائے ہو میری بخشش کے اے سِتم گھر
عشق مجھے ہے دل سُوز مجھے ہی رہنے دو
آج سُولی پہ چڑا ہوں کوئی تیرا قصُور تھوڑی ہے
عشق مجھے ہے دل سُوز مجھے ہی رہنے دو
نفرتیں دَر پیش ہیں مجھے میرے سایےکی طرح
تُمھیں کیا! عشق مجھے ہے دل سُوز مجھے ہی رہنے دو
لگی ہے آگ جو گھر کو ذَد میں شہر بھی آسکتا ہے
خوف تجھے ہے کیوں دل سُوز مجھے ہی رہنے دو
رفتہ رفتہ بناتے جا رہے ہو خود کو تم عادت میری
جَل جاؤ گے نفیس عشق مجھے ہے مجھے ہی رہنے دو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






