عندلیبِ گلشنِ گُفتار کیفی اعظمی
Poet: Ahmed Ali Barqi Azmi By: Ahmed Ali Barqi Azmi,اہلِ دانش کے معین و یار کیفی اعظمی
گلشنِ شبلی دیارِ شرق کی ہے آبرو
اُس چمن کے تھے گُلِ بے خار کیفی اعظمی
تھے ستم دیدہ دلوں کے دل کی دھڑکن عمر بھر
چارہ سازِ مُفلس و نادار کیفی اعظمی
اُن کی اردو شاعری ہے مظہرِ سوزِ دروں
دردِ دل کا کرتے تھے اظہار کیفی اعظمی
نقشِ اول سے ہی اپنے ہوگئے ہردل عزیز
شاعرِ مجموعہ ”جھنکار“ کیفی اعظمی
اُن کے اعجازِ قلم کا ہے زمانہ معترف
بزم میں تھے مطلعِ انوار کیفی اعظمی
اُن کے علمی اور فلمی کارنامے ہیں عظیم
تھے ادب کے ایک خدمتگار کیفی اعظمی
جیسے ہیں جاوید اختر سب کے منظورِ نظر
ویسے ہی تھے زندہ دل فنکار کیفی اعظمی
دس مئی کو ”آخرِ شب “کا مسافر چل بسا
ہیں دلوں میں اب بھی جلوہ بارکیفی اعظمی
ہیں شبانہ اعظمی اُن کی وراثت کی امین
جس کے تھے برقی علمبردار کیفی اعظمی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






