عکس
Poet: دانشور By: Mohammad Danishwer , Lahoreخالی زندگی کے شفاف ورق پر
خاکہِ مستقبلِ روشن بنا کر
لطف زندگی مجھے چکھا کر
جینے کی وجہ مجھے بتلا کر
اندھیروں سے مجھے نکال کر
مینارِ روشن پر مجھے چڑھا کر
طبیعت کو میری جلا کر
خام سے مجھے کندن بنا کر
کیوں کچھ کمی باقی لگتی ہے
سب ہے، پر یہ ترقی عجیب لگتی ہے
قریب مجھ کو ہر خوشی لگتی ہے
منزل پر ہوں، پر منزل بعید لگتی ہے
جدھر دیکھتا ہوں تو ہی تو ہے
تیرا چہرہ میرے روبرو ہے
محسوس تو مجھے ہوا بھر پور ہے
جیسے مجھ میں صرف تو ہی موجود ہے
پھر دل کیوں میرا مچل رہا ہے
پیاسا جیسے کوئی مر رہا ہے
درد سے میرا دم گھٹ رہا ہے
کیا سمجھوں یہ کیا ماجرا ہے
تفحصِ اضطراب بڑھا تو مجھ پر عیاں ہوا
تھا منشائے حیات ہی غازہِ ناکامی لگائے ہوا
جو تو تھا میری آنکھوں میں ہر پل چمکتا ہوا
وہ تو نہیں محض تیرے وجود کا عکس ہوا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






