غزل
Poet: Syed Najaf Ali Sherazi(Udaas Sherazi) By: Sayed Najaf Ali Sherazi, Gujranwalaانکی گلیوں سے اب کوئی نہیں رشتہ یہاں سے لوٹ جائنگے
کہیں رسوا نہ کریںوہ زیادہ اکیلے ہی آنسوں بہائیں گے
انکے ھاں محبت کا قتل کوئی نئی بات نھیں
پھر بھی اسکی راہ میں گل ھی بچھا ئیں گے
تیری گلیاں ھیں اب بھی میرے خون سے رنگیں
تیری ظلمت کی سب کو کہانی سنائیں گے
جس گھڑی میں لٹا تھا تو نے اک اعلان کروایا
کردو پامال اسے خود ماتم سجائیں گے
اب رہا وعدہ میرا او سنگدل بےوفاتجھ سے
لیں گے اک اور جنم اور تجھ سولی پہ چڑھائیں گے
میرے مرنے کے بعد وہ ھنسا بےبہا
پھر کھا کے قسم کہا تجھے اور تڑپائیں گے
اداس کی میت پہ کوئل کا نوحہ تھا فقط
ھے اتنی بے بسی کہ خود ہی اشک بھائیں گے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






